ابنا: مظاہرے ميں شريک لوگ امريکي حکومت کي جانب سے شام کے خلاف ہر قسم کي فوجي کاروائي کي مخالفت کا اعلان کررہے تھے ۔ مظاہرين کا کہنا تھا کہ ہم شام کے خلاف ہرقسم کي فوجي کاروائي کے خلاف ہيں ۔ مظاہرے ميں شريک طلباء اور جنگ مخالف گروہوں نے مطالبہ کيا کہ امريکا ديگر ملکوں ميں اپني مداخلت پسندانہ پاليسياں بند کرے ۔مظاہرين صدر باراک اوباما پر جھوٹ بولنے اور شام پر حملے کے لئے جھوٹے بہانے تراشنے کا الزام لگارہے تھے ۔ مظاہرے ميں جنگ ويتنام حصہ لينے والے فوجيوں سميت درجنوں ريٹائرڈ فوجي شريک تھے۔ ادھر بلجيم کے دارالحکومت بريسلز ميں بھي لوگوں نے امريکي سفارتخانے کے باہر اجتماع کرکے شام پر امريکا کے ممکنہ حملے کي مخالفت کا اعلان کيا ۔مظاہرے کا اہتمام بائيں بازو کے جنگ مخالف ايک گروہ نے کيا تھا ۔ مظاہرين کا کہنا تھا کہ شام پر امريکا اور فرانس کا حملہ نہ صرف يہ کہ شامي عوام کي مدد کے لئےنہيں ہے بلکہ اس کامقصد علاقے ميں امريکا اور فرانس کے سامراجي مفادات کو حاصل کرنا ہے۔......./169
8 ستمبر 2013 - 19:30
News ID: 461166
امريکي شہر بوسٹن کے باشندوں نے شام پر امريکا کے ممکنہ حملے کے خلاف مظاہرہ کيا ہے ۔